

ارشد ہایٔ کورٹ کا ایک نوجوان وکیل ہے ناز و نعم میں پلا ارشد والدین کی ہزارتمناوں ، آرزووں و کوششوں کے باوجود نہ انجینیر بن سکا اور نہ ہی ڈاکٹر۔ بمشکل میٹرک پاس کیا۔ اکلوتی اولاد ہونے کے سبب والدین کی بہو اور پوتے پوتیوں کی تمناییٔں عروج پر تھیں، چنانچہ شادی بھی کردی گیٔ۔ اب اس کی ذمہ داریوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پریشانیاں بھی بڑھ چکی تھیں۔ ادھر والدین اللہ کو پیارے ہوچکے تھے اور ان کی پینشن بھی ختم ہوچکی تھی تو ادھر اخراجات اور مہنگایٔ آسمان سے باتیں کر رہے تھے۔ معمولی تعلیم و تجربہ کسی اچھے وسیلہ رزق کے حصول میں مانع تھا۔ پریشانی کے انہی دنوں میں ایک سیاسی پارٹی کے جلسے جلوسوں میں نعرے لگانے کی پیشکش اس کے لۓ نعمت غیر مترقبہ بن گیٔ۔ الیکشن قریب تھے اور معاوضہ انتہایٔ معقول تھا۔ ارشد سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے معمول سے کام کی اتنی بڑی اجرت بھی اس غریب ملک میں ممکن ہے۔ اپنی شاطرانہ طبیعت چاپلوسی اور خوشامدانہ طرز عمل سے وہ جلد ہی اس سیاسی رہنما اللہ دتا چودھری کا منظور نظر بن گیا۔ اس کے حالات بدلنے لگے، مالی تنگی بھی دور ہوتی گیٔ مگر اس کی بیوی رخسانہ حالات سے مطمٔن نہ تھی۔ اٹھتے بیٹھتے وہ اسے علم میں اضافہ کرنے اور معقول ملازمت حاصل کرنے کا مشورہ دیا کرتی۔ ارشد اکثر اس کی ان باتوں کو ٹال دیا کرتا مگر جب بھی سیاسی رہنما کے ساتھ خلوت میں اس کی بات ہوتی وہ رخسانہ کی تلقین کو ہنستے ہنستے اسے بھی سنا دیا کرتا۔ایک دن جب وہ اللہ دتا چودھری کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا چودھری نے اسے وکالت کی ڈگری کی پیشکش کردی۔ اسے بڑا تعجب ہوا کہ صرف میٹرک اور وہ بھی درجہ سویٔم کے ساتھ وہ وکالت کیسے پڑھ سکتا ہے۔
یہ، یہ، یہ کیسے ممکن ہے میں تو صرف میٹرک پاس ہوں۔ ارشد نے تعجب سے پوچھا۔
کیوں نہیں پتر، اگر چودھری اللہ دتا، پی ایف، وکیل بن سکتا ہے تو تم تو میٹرک پاس ہو، اعلی تلیم یافتہ ہو کیوں نہیں۔
آپ شاید ایف ایس سی کہتے کہتے پی ایف کہ گۓ۔ ارشد بولا۔
اللہ دتا نے قہقہ لگایا۔ اوہ نییٔں پتر پی ایف کا مطلب ہے پرایٔمری فیل۔
چودھری نے ارشد کو بتایا کہ اسے صرف چند کاغذات پر چند جگہوں پر دستخط کرنے ہونگے اور کسی خطرے کی قطعاً کویٔ امید نہیں تو وہ مطمنٔ ہو گیا۔ وقت گذرتا رہا اور ارشد چودھری کی عنایات کے ساۓ تلے معاشرے کے معززین کے مرتبے تک پہنچ گیا۔ بڑی بڑی پارٹیوں، دعوتوں، محفلوں میں وہ اللہ دتا کے شانہ بشانہ رہتا۔ ایک دن ایسی ہی ایک پارٹی میں اللہ دتا نے سے ایک لفافہ پکڑاتے ہوۓ مبارکباد دی۔ ارشد نے شکریہ ادا کرنے کے بعد جب اسے کھول کر دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گیٔیں۔ لفافے کے اندر پاکستان کی معروف اور اعلی ترین جامعہ کی عطا کردہ اس کے نام کی وکالت کی ڈگری اور ساتھ ہی پریکٹس کا اجازت نامہ موجود تھا۔
جعلی ہے؟ اس نے مسکراتے ہوۓ چودھری سے پوچھا۔
بس یوں ہی سمجھ لو، جعلی ہے لیکن ہے تو ڈگری۔ پاکستان یا باہر کا کویٔ ادارہ اسے جعلی نہیں بلکہ اصلی ہی قرار دے گا۔ اللہ دتا کچے کام نہیں کرتا۔ چودھری نے مسکراتے ہوۓ مونچھوں کو تان دی اور صوفے پر بیٹھ گیا۔
اس دن کے بعد سے ارشد کے کیریر نے مزید اونچی اڑان بھرنا شروع کردی۔ سیشن کورٹ سے ہایٔ کورٹ تک کا سفر مقررہ میعاد سے بھی کم وقت میں مکمل کرلیا۔ چودھری کی عنایات جاری رہیں ۔ سیاسی داؤ پیچ کا ماہر ارشد اب بار کا صدر ہی نہیں بلکہ محکمہ اوقاف کا ضلعی سیکریٹری بھی بن چکا تھا۔ اب شہر کے بیشتر علماء اس کے حلقہ بگوش بن چکے تھے، دینی اجتماعات میں اس کی موجودگی ایک ضرورت بن چکی تھی کیونکہ اب وہ مولویوں کی خدمت بھی اسی نہج پر کرتا تھا جس نہج پر اللہ دتا نے اس کی کی تھی۔ مولوی بھی ہر اس اس اجتماع میں جہاں ارشد موجود ہو اس کی شان میں حتی المقدور قصیدہ خوانی کرتے اور اس کے لیۓ، اس کی اگلی پچھلی نسلوں کے لۓ خصوصی دعاییٔں کیا کرتے۔
ادھر ارشد کی صلاحیتوں اور خود اللہ دتا کی معجزانہ صفات نے مل جل کر اللہ دتا کو بھی چھوٹے ے شہر سے نکال کر اسلام آباد کے ایوان اقتدار تک پہنچا دیا تھا۔ اب چودھری اللہ دتا پی، ایف، مرکز میں وزارت داخلہ کے مشیر کے اہم ترین عہدے پر فایٔز تھا، اعزازی پی ایچ ڈی کے حصول کے بعد اب وہ ڈاکٹر اے ڈی چوہدری کہلاتا تھا۔
ایک دن ایسی ہی خلوت کی گفتگو میں اللہ دتا چودھری کچھ بے چین سا نظر آیا ۔ ارشد کے استفسار پر اس نے سپریم کورٹ میں داخل کی جانے والی درخواست کا ذکر کیا جو اس کے خلاف درج ہو چکہی تھی اور چودھری کی تمامتر کوششوں کے باوجود سماعت کے لیٔے منظور بھی کر لی گیٔ۔ چودھری کو اس بات کا بے حد قلق تھا کہ سپریم کورٹ میں اس کا کویٔ 'خاص' اپنا وکیل نہیں اور امکانات ہیں کہ وہ یہ مقدمہ ہار جاۓ، جو اسے کبھی قبول نہ تھا ۔ ارشد کے لیۓ اپنی وفاداری دکھانے کا یہ نادر موقع تھا۔ اس نے سیاسی رہنماء کو کہا کہ وہ اسے سپریم کورٹ کا وکیل بنانے میں اپنا سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرے۔ چودھری نے بڑی شفقت سے اس کے شانے تھپتھپاۓ۔
بس پتر سمجھ لے تو بن گیا۔
وہ گرمی کا طویل ترین دن تھا۔ اللہ دتا چودھری سے گفتگو کے بعد وہ دیر سے گھر لوٹا۔رخسانہ حسب معمول رات کے کھانے پر اس کا انتظارکر رہ تھی، بچے پہلے ہی سونے جاچکے تھے۔ کھانے کی میز پر جب اس نے رخسانہ سے اپنی سپریم کورٹ میں ممکنہ تعیناتی کا ذکر کیا اور ساتھ ہی سیاسی رہنما کے تعاون کا بھی ذکر ہوا تو رخسانہ کے چہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے۔ ارشد کو پتہ تھا کہ رخسانہ اس کی ان حرکتوں سے خوش نہیں ہوتی، وہ حلال کی دال روٹی میں خوش رہنے والی عورت تھی جس کے والدین نے اس کی پرورش بڑی اعلی اقدار پر کی تھی۔ کھانے کے بعد کچھ دیر وہ ٹی وی پر خبریں سننے کے بعد رخسانہ کو جو ابھی تک باورچی خانے میں ہی مصروف تھی، شب بخیر کہتا ہوا سونے کے لیٔے چلا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک اواز تھی جس سے ارشد کی آنکھ کھل گیٔ۔ آواز کیا تھی جیسے کویٔ دو آدمی ایک دوسرے سے گفتگوکر رہے ہوں مگر زبان اور آواز دونوں ہی عجیب تھیں جیسے گٹار کے دو تار آپس میں الجھ رہے ہوں، کمبل کو ذرہ سا منہ سے سرکا کر اس نے نیم اندھیرے کمرے میں چاروں طرف نگاہ دوڑایٔ مگر کچھ نظر نہ آیا۔ خوف میں تھوڑی کمی واقع ہویٔ تو اس نے دوبارہ کمبل تان لی لیکن ذہن اس عجیب و غریب آواز پر ابھی بھی ٹکا تھا۔ نیند ایسے غایٔب سی تھی جیسے کبھی آیٔ ہی نہ ہو۔ اس نے کروٹ لینی چاہی مگر چونک پڑا۔وہی آواز پھر آنی شروع ہوگیٔ مگر اس دفعہ کچھ بلند تھی۔ ارشدنے ڈرتے ڈرتے پھر چہرے سے کمبل سر کایا اور ہمت کرکے گھٹی گھٹی خوفزدہ آواز میں بولا۔
ک ، ک، کو، کون؟
آواز بند ہوگیٔ۔ جیسے دو آدمی گفتگو کرتے کرتے یکایک رک جایٔں۔ارشد نے ہمت کرکے کمبل پرے کی اور اٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اٹھ کر روشنی کرے کہ اچانک کمرے کے وسط میں روشنی کا ایک ہیولا سا نمودار ہوا۔خوف کے مارےا رشد نے پھر بیٹھے بیٹھے ہی منہ پر کمبل تان لی مگر ایک کونے سے وہ ہیولے کو دیکھتا رہا۔ یکایک ہیولے کی جسامت بڑھی اور اس نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جسامت کچھ ایسی تھی جیسے دو اشخاص روشنی کے دایٔرے میں ساتھ ساتھ کھڑے ہوں۔ ۔ اب پورا کمرہ ایسا بقعہ نور بن چکا تھا جیسے ہزار ہزار واٹ کے کیٔ بلب ایک ساتھ جل اٹھے ہوں۔ عجیب بات یہ تھی کہ اس قدر تیز روشنی کے باوجود آنکھوں میں چبھن کی بجاۓ ایک فرحت بخش احساس تھا کویٔ تکلیف نہ تھی۔
ڈرو نہیں، ہم تمہارے لیۓ خوشخبری لایۓ ہیں۔
آواز واضح تھی، انسانی تھی اور نہایت نرم تھی، شفقت سے بھر پورتھی۔ ایسا لگ رہا تھا دو آدمی ایک ساتھ بول رہے ہوں
ارشد کے خوف میں تھوڑی کمی واقع ہویٔ ۔ ہمت کر کے اس نے کمبل سے منہ پوری طرح باہر نکال لیا۔ بستر سے تھوڑی دوری پر کمرے کے وسط میں دو قد آدم ہیولے سے تھے، خط و خال بالکل واضح نہ تھے۔آواز کے ساتھ ان میں ارتعاش بھی محسوس ہو رہاتھا۔
ک، ک، کون، کون ہیں آپ ۔ ارشد کی آواز میں کپکپاہٹ نمایاں تھی۔خوف واضح تھا الفاظ حلق کے اندر گھٹتے محسوس ہو رہے تھے۔
ہم فرشتے ہیں، اللہ رب کا ینأت جل جلالہ جل شانہ نے ہمیں آپ کی خدمت میں خوشخبری پیش کرنے کا حکم دیاہے۔
خوشخبری؟ ارشد کا خوف کافور سا ہوگیا۔ کمبل پھینک وہ ان ہیولوں کے سامنے کھڑا ہوگیا۔
کیا میری کو ششیں، کاوشیں کامیاب ہویٔیں، میں چیف جسٹس منتخب کر لیا گیا۔
نہیں ، آپ کی کوششوں اور کاوشوں سے آپ کے حسنات کم ہوۓ کیونکہ وہ شریعت اور معاشرتی قوانین کے صریح خلاف تھے۔
پھر کیا پانچ بیٹیوں کے بعد میرے بیٹے کے لیۓ دعاء قبول ہوگیٔ۔
یہ بھی نہیں۔
اچھا، ارشد سوچ میں پڑ گیا۔ اس کا ذہن بڑی تیزی سے ان دعاؤں کو یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا جو اس نے حالیہ دنوں میں نماز اور دیگر اجتماعات میں کی تھیں۔
فرشتوں کے ہیولوں میں ارتعاش نہیں تھا۔ جیسے وہ ارشد کو توجہ سے سن رہے ہوں۔
اچھا، یقینا پھر یہ میرے گرین کارڈ کی اپروول ہوگی۔ سفارت خانے سے مجھے خط ملنے والا ہوگا۔ ارشد کا چہرہ خوشی سے تمتما رہا تھا۔ خوشخبری سننے کے لیۓ وہ اتنا بیتاب تھا کہ فرشتوں کو بھی بولنے کی مہلت نہیں مل پارہی تھی۔
نہیں یہ خوشخبری دنیاوی نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔
سمجھ گیا ،سمجھ گیا، اوہ، اوہ، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ جنت، جنت، جنت کی وعید لیکر آۓ ہیں آپ؟ فرشتوں کا جملہ مکمل ہونے سے قبل ہی ارشد بول پڑا۔
ابھی اس فیصلے کا وقت نہیں آیا۔ فرشتوں نے حسب سابق ایک ساتھ بڑی نرمی سے کہا۔
پھر کیا ہے بتایٔیں محترم میں سراپا گوش ہوں۔ ارشد نے بیتابی سے کہا۔
آپ کی مدینے کی تدفین والی دعاء اللہ رب العزت نے قبول فرمالی۔
ارشد خوش تو تھا، چہرے پر یک گونہ سکون بھی تھا، لیکن خفیف سی مسکراہٹ اس بچے کی مانند تھی جو ریموٹ سے چلنے والی گاڑی کی ضد کر رہا ہو اور باپ اسے ماچس سایٔز کی ایک گاڑی خرید کر دے۔
الحمد للہ، الحمد للہ، بہت شکریہ، ممنون و مشکور ہوں اس رب کا اور آپ کا بھی جو اتنی اچھی خبر لاۓ۔ ارشد نے پلنگ پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔
بے شک وہ رب سمیع و علیم ہے۔رحمٰن و رحیم ہے۔فرشتوں نے یک زبان ہوکر جواب دیا۔ پھر گویا ہوۓ۔
قبولیت کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ بارگاہ ایزدی سے ایسا ہی حکم جاری ہوا ہے۔
کیا ؟ ارشد جھٹکے سے کھڑا ہو گیا۔
لیکن تدفین تو، ارشد کچھ کہتے کہتے رک گیا۔پیشانی پر تشویش کے خطوط اور چہرے پر خوف کے آثار نمایاں تھے۔
تدفین تو، م، م، مو، موت کے بعدہی ہوگی نا ؟۔ اس نے بمشکل جملہ مکمل کیا۔
درست، اور اسی حکم کی تعمیل کے لیۓ ہم حاضر ہوۓ ہیں۔ یہ میرے دوسرے ساتھی حضرت عزرایٔل ہیں جو آپ کی روح قبض کرینگے۔
کیا، کیا، یعنی ابھی، ۔۔۔ ف، ف، فو، فو، فوراً میری روح قبض کی جاۓ گی ؟ ارشد کی آواز میں کپکپاہٹ تھی، خوف تھا، کیفیت وہی تھی جو پھانسی گھاٹ پر جانے والے سزاۓ موت کے قیدی کی ہوتی ہے۔
یہیں، ابھی اور اسی لمحے؟
جی ، یہیں، کویٔ گھنٹے بعد۔
ارشد سوال و جواب تو وقت ٹالنے کے لیۓ کر رہا تھا ۔لیکن اس کا شاطر سیاسی دماغ بڑی تیزی سے گلو خلاصی کی تدبیریں سوچ رہا تھا۔ ایک بات تو فرشتوں نے بتا دیا تھا کہ روح یہیں قبض کی جاییٔگی اور گھنٹے بعد۔ اس کا مطلب ہے اگر اس جگہ سے نکل لیا جاۓ اور گھنٹے سے زیادہ ہو جاۓ، تو، تو، شاید ۔۔۔۔۔
اس سے آگے وہ سوچ نہیں سکا۔
دیکھیۓ محترم میرے ذمہ کچھ قرض ہے اور میں اس حوالے سے کچھ وصیت لکھنا چاہونگا۔ اگر آپ مجھے تھوڑی سی مہلت دیدیں تو میں اندر جاکر وہ وصیت لکھ دوں تاکہ میرے بعد میرے پسماندگان وہ قرض ادا کردیں۔
فرشتوں کے ہیولوں میں کچھ ایسی واضح حرکت ہویٔ جو اجازت کے مترادف ہی سمجھی جاسکتی تھی۔
شکریہ، بہت شکریہ۔۔
ارشدنے بڑی سرعت سے کمرے سے نکل کر لاونج ،باورچی خانہ اور پھر وہاں سے عقبی دروازے کا رخ کیا۔ دوسرے لمحے وہ ایک مصروف سڑک پر مخالف سمت میں دوڑ رہا تھا۔ رات زیادہ گہری نہیں ہویٔ تھی اور اب بھی سڑک پر کافی چہل پہل تھی۔ کسی نہ کسی طرح وہ ایک گھنٹے سے زاید اپنے گھر سے دور رہنا چاہتا تھا۔ اور اس کام کے لیۓ اس مصروف سڑک سے بہتر کیا ہو سکتا تھا ۔ اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا، سڑک پر کویٔ بھی نہیں تھا۔ اطمنان کا سانس لے کر جیسے ہی وہ مڑا ہیولے کی شکل میں وہ دونوں فرشتے سامنے کھڑے تھے۔ اس کی کیفیت عجیب سی تھی جیسے چوری کرتے کویٔ پکڑا گیا ہو۔
وہ، وہ، وہ، دراصل میں اے ٹی ایم کی تلاش میں تھا تاکہ قرض خواہوں کے لۓ پیسے نکال کر اہلیہ کو دیدوں۔
فرشتے کچھ نہ بولے، دونوں فضاء میں بلند ہوۓ اور ارشد کو ایسا محسوس ہوا جیسے انہوں نے ارشد کو بھی اپنے پروں پر اٹھا لیا ہو۔ دوسرے لمحے وہ اپنے کمرے میں بستر پر بیٹھا ہوا گلو خلاصی کی کویٔ دوسری ترکیب سوچ رہا تھا۔ اللہ دتا کی صحبت نے اسے ناکامی لفظ سے مکمل طور پر نا آشنا کر دیا تھا۔ اس کی لغت میں اس لفظ کا وجود تک نہ تھا۔
کمرے میں خموشی تھی۔ بالاخر ارشد نے ہی سکوت توڑا۔ پہلے فرشتے سے مخاطب ہو کر بولا۔
آپ نے فرمایا تھا کہ یہ آپ کے دوسرے ساتھی میری روح قبض کرینگے تو پھر آپ، ۔۔آپ کیا کرینگے۔
میں آپ کی مدینے کی تدفین کے انتظامات مکمل کرونگا۔ مخاطب فرشتے نے جواب دیا.
کیا سعودی حکومت نے جنت البقیع میں دفن کرنے کی اجازت دیدی۔ ارشد کسی طرح گفتگو کو طول دیکر چھٹکارے کی کویٔ راہ نکالنا چاہ رہا تھا۔
نہیں آپ کی تدفین کسی اور قبرستان میں ہوگی۔ جنت البقیع میں نہیں۔ وہاں مدفون مسلمین تیار نہیں آپ کو برداشت کرنے کے لیۓ، انہوں نے بارگاہ ایزدی میں درخواست دی ہے کہ آپ کو وہاں دفن نہ کیا جاۓ۔
ان کی تو ۔۔۔۔ ارشد کا سیاسی رخ جھلکنا شروع ہو چکا تھا۔ "یقینا وہ سارے کمبخت ف لیگ والےہونگے"۔ وہ بڑ بڑایا۔
جی،؟
ف، ف، یعنی فالتو لیگ والے۔
لیکن وہ تو سارے متوفی ہیں مدفون ہیں، ان کا سیاست سے کیا تعلق۔
آپ نہیں جانتے، یہ فالتو لیگ والے اپنے چہارم کے بعد بھی صدر بننے کا شوق رکھتے ہیں۔
خیر چھوڑیں، دعاء تو جنت البقیع کے لیۓ کی تھی مولوی صاحب نے۔ ارشد بولا
دعاء من و عن قبول ہویٔ ہے محترم ، آپ کے مولوی کی دعاء میں شہر کا ذکر تو تھا جگہ کی وضاحت نہیں تھی۔
'مروا دیتا نا مرادا مولوی' ارشد بڑ بڑایا۔
کیا فرمایا۔ فرشتے بولے۔
کچھ نہیں۔ سنیں ، دعاء تو مولوی نے مانگی تھی بھایٔ جان۔ ارشد چاپلوسانہ انداز میں انداز بولا ۔
آپ نے آمین کہا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ یہی آپ کی دعاء بھی ہے۔
واپس لے سکتا ہوں آمین ؟ کیا دعاء کے لۓ کویٔ دعاء اسٹے آرڈر کے طرز کی نہیں۔ ارشد کے اندر کے وکیل نے بولنا شروع کر دیا۔ دراصل وہ انہیں باتوں میں الجھا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہ رہا تھا جیسے عدالت میں الٹی سیدھی جرحیں کرکے وہ ججوں کو کنفیوز کر دیا کرتا تھا۔
ارے، کیسے مسلم ہیں آپ حضوراتنی بڑی سعادت کو ٹھکرا رہے ہیں۔ مدینہ میں تدفین، سبحان اللہ۔ بس ذرہ ہوشیار رہیۓ گا۔
کیوں، کیسی ہوشیاری۔
مسیلمہ بن حبیب المعروف مسیلمہ کذاب بھی اسی قبرستان میں دفن ہے۔ آپ کی قبر اس کے ہی بغل میں ہوگی۔ وہ آپ کا پڑوسی ہوگا۔
استغفراللہ۔ استغراللہ۔ ارشد بڑ بڑایا۔
اس کی نگاہیں کسی کھلے دریچے، دروازے یا کھڑکی کی تلاش میں تھیں اور وہ انہیں باتوں میں الجھاۓ رکھنا چاہ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کیسے موت کی بلا کو ٹالے۔ اس کا ذہن بڑی تیزی سے سوچ رہا تھا ۔ موت سامنے کھڑی نظر آرہی تھی اور کویٔ ترکیب سجھایٔ نہ دے پارہی تھی۔
اچانک اسے کچھ یاد آیا۔ مولوی سے جمعہ کے خطبے میں سن رکھا تھا کہ فرشتے آگ کے بنے ہوتے ہیں۔
پانی ، پانی، ۔۔۔۔۔۔ وہ بڑ بڑایا ۔
کیا فرمایا، فرشتے یکزبان ہوکر بولے۔
کیا پھر اس بات کی اجازت ہے کہ میں وضو بنالوں، ویسے بھی لوگ تو وضو دیتے ہیں میت کو دفنانے سے قبل، کیوں؟
ہاں ہاں ضرور، بسم اللہ۔ فرشتوں نے یکزبان ہو کر کہا۔
ارشد کا شاطرانہ مولویانہ دماغ تیزی سے غسل خانے کی بیرونی کھڑکی کی پیمایش میں مصروف تھا، اسے یقین تھا کہ وہ با آسانی اس سے باہر چھلانگ لگاسکے گا اور پھر قریب کے اس بڑے سے جھیل نما بارش کے پانی سے بنے گڑھے تک پہونچنے میں کامیاب ہوجاۓ گا جہاں آگ سے بنے فرشتے کبھی پہونچ نہ پاینگے۔
اجازت ملتے ہی ارشد تیزی سے غسلخانے کی طرف لپکا، اندر سے کنڈی لگایٔ اور پھر چند ہی لمحوں میں کھڑکی سے چھلانگ لگا کر وہ تالاب نما پانی کے گڑھے کی طرف دوڑ رہا تھا۔ موت کے خوف نے اس میں بے پناہ قوت پیدا کردی تھی ۔ گڑھا ابھی بھی کویٔ بیس گز دور تھا، اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کا رواں رواں کانپ اٹھا۔ فرشتے اس سے صرف چند قدم دور تھے۔ اس نے دوڑنا چھوڑ کینگرو طرز کی قلابازیاں لگانی شروع کردیں۔ بالاخر وہ تالاب کے کنارے پہونچنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ بس ایک آخری چھلانگ تھی اور ابھی فرشتے کویٔ پانچ قدم دوری پر تھے۔ ارشد نے چھلانگ لگادی ۔۔۔۔۔۔۔
کپ کپاتی سردی کے دنوں میں ارشد کو چہرے پر سرد پانی کا احساس بالکل ایسا لگا جیسے کسی نے چہرے پر بلیڈ پھیر دیا ہو۔ اس کی آنکھ کھل گیٔ۔
مولوی صاحب اٹھ جاییں، گھر میں پانی ختم ہوگیا ہے اور گیس بھی نہیں آ رہی۔ ناشتے کے لیۓ بھی کچھ نہیں ۔
رخسانہ بولے جارہی تھی اور ارشد دل ہی دل میں ایک نیٔ فول پروف، غلطیوں سے مبرا دعاء ترتیب دے رہا تھا۔
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ


انجینیر سید غالب حسن
اشتہارات
تدفین مدینہ
Contact Us رابطہ کریں
Phone
info@foundationschoolsystem.com
+1-555-123-4567
© 2025. All rights reserved.
Zahra & Dost Muhammad Foundation (Z&DM)
